شہر کراچی میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا سبب صوبے میں ضعیف وزیر اعلیٰ کی موجودگی ہے، شفقنا اردو سے مولانا علی انور جعفری کی خصوصی گفتگو

شفقنااردو (بین الاقوامی شیعہ خبررساں ادارہ) – مولانا علی انور جعفری کا تعلق شہر قائد کراچی سے ہے اور آپ معروف عالم دین و خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ اس وقت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن میں رابطہ سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہیں، ماضی میں آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے قیام میں بنیادی محرک رہے ہیں، کراچی کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے کی جانے والی خصوصی گفتگو قارئین کے لئے پیش کی جا رہی ہے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے رہنما مولانا علی انور جعفری نے کہا ہے کہ شہر کراچی میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور ملت جعفریہ کے عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کا اصل سبب در اصل انتظامیہ کی نا اہلی اور سست روی ہے جبکہ صوبے میں ضعیف العمر شخص کا وزیر اعلیٰ کے اہم ترین منصب پر فائز ہونا ہے، ان کاکہنا تھا کہ صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کی عمر کا تقاضا ہے کہ وہ گھر پر آرام کریں لیکن افسوس کی بات ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے انہیں وزیر اعلیٰ کے اہم منصب پر فائز کر رکھا ہے جسے وہ نبھانے میں پورا نہیں اترے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں مولانا علی انور جعفری نے کہا کہ شہر میں قتل وغارت کا بازار گرم ہے اور جہاں ضعیف العمر شخص وزیر اعلیٰ بنا بیٹھا ہے وہاں اس صوبے کی بد قسمتی یہ ہے کہ یہاں پر ذوالفقار مرزا کے بعد کسی کو آج تک وزارت داخلہ کا عہدہ نہیں دیا گیا جس کے باعث صوبے میں امن و امان کی صورتحال بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔
مولانا علی انور جعفری نے کہا کہ ملت جعفریہ کے عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ صرف کراچی شہر میں ہی نہیں ہو رہی بلکہ حیدرآباد، خیر پور اور سندھ کے دیگر دیہی اور شہری آبادیوں میں بھی دیکھنے میں آئی ہے اورا س کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کالعدم دہشت گرد گروہوں نے سندھ بھر میں اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں اور ہزاروں ایسے مدارس موجو دہیں جہاں پر کم عمر جوانوں کو دہشتگردی اور شیعہ مسلمانوں کو قتل کرنے کی تربیت فراہم کی جاتی ہے لیکن حکومت کو بارہا نشاندہی کرنے کے باوجود تا حال سندھ انتظامیہ نے کسی راست اقدام کا فیصلہ نہیں کیا جو سندھ حکومت سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پر سوالیہ نشان ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مولانا جعفری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت بشمول بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری نے ہمیشہ دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے لیکن نہیں معلوم کہ پارٹی میں موجود اور حکومتی نشستوں پر موجود اعلیٰ سطح کے عہدیداروں کا ایجنڈا اپنی قیادت سے مشابہت بھی رکھتا ہے کہ نہیں، بہر حال حکومتی رویہ سے تو ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی اراکین پی پی پی اور قیادت بلاول بھٹو زرداری کے خیالات میں زمین آسمان کا فرق موجود ہے۔
شہر کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مولانا علی انور جعفری نے کہا کہ اگر چہ شہر کراچی میں پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن جاری ہے لیکن ایک سال سے جاری اس آپریشن کے نتائج میں ملت جعفریہ کو تو صرف مزید لاشوں کے تحفے ہی ملے ہیں اور دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کسی قسم کی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے لہذٰا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شہر کراچی کے امن و امان کی بحالی اور پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی کو مستحکم بنانے اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے آرٹیکل 245کا نفاز عمل میں لایا جائے اور کراچی میں ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف فوجی آپریشن کیا جائے اور شہر سے دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جائے۔

شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

Share This Article